اس نے تو ہریجن کے کنویں کا پانی پیا ہے

ایک زمانہ تھا جب ہریجن جماعت کو بہت ہی حقیر سمجھتا تھا۔

ان لوگوں کے رہنے کا محلہ قصبے سے دور ہوتا تھا، پانی پینے کا کنواں الگ ہوتا تھا چنانچہ ایک واقعہ ہے کہ پانچ آدمی سفر میں جا رہے تھے ، راستے میں پیاس نے بہت ستایا ، گرمی کا موسم تھا اتفاق سے ہریجن جماعت کا کنواں آگیا تو آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ چلو سب کے سب اس کنویں کا پانی پی لیں اور سب مل کر عہد کریں کہ یہ بات کسی دوسرے سے نہ کہیں گے کہ ہم نے ہریجن کے کنویں کا پانی پیا ہے ۔ پانچ آدمیوں میں سے چار متفق ہوگئے ایک آدمی نے کہا میں تو ہرگز نہیں پیوں گا یہ کہہ کر چل دیا۔چار آدمیوں نے اس کنویں سے پانی نکالا اور پیا، اس کے بعد چلے

جس کے یہاں مہمان بن کر جا رہے تھے اس کے گھر پر پانی نہ پینے والا آدمی پہلے پہنچ گیا اور ان چار آدمیوں کی بات کہہ دی کہ ان لوگوں نے ہریجن کے کنویں کا پانی پیا ہے ہریجن کے کنویں کا پانی پینا ان کے مذہب کے بالکل خلاف تھا۔ میزبان نے کہا اگر ایسا ہے تو ہم ان کو اپنے گھر میں نہیں آنے دیں گے، کچھ دیر کے بعد وہ چار آدمی جنہوں نے ہریجن کے کنویں کا پانی پیا تھا وہ بھی آ گئے،جیسے ہی گھر گھر سے تو دیکھا کہ وہ آدمی جس نے ہر جرم کے کنویں کا پانی نہیں پیا تھا چارپائی کے اوپر بڑے ٹھا ٹھ سے بیٹھا ہوا تھا ، یہ چاروں آدمی ایک آواز ہو کر بول اٹھے اور میری زبان سے کہا اس آدمی کو اپنے گھر میں کیوں بیٹھایا ہے اس نے تو ہریجن کے کنویں کا پانی پیا ہے ۔ اس نے کہا میں نے نہیں بلکہ ان لوگوں نے پیا ہے ۔ آخر یہ ہوا کہ وہ چار آدمی سچے سمجھے گئے اور اور اس ایک آدمی کو جو بچا تھا چھوٹا قرار دے کر گھر سے نکال دیا گیا اور یہ چاروں بڑی سانس سے میزبان کے گھر چارپائی کے اوپر جا کر بیٹھ گئے 

فائدہ:

یہی حالت ہر جگہ ہو گئی ہے کہ سچے اور حق پرست کم ہے اور جھوٹے، مکار دغا باز چور اور ڈاکو کو زیادہ ۔ سچوں اور حق پرستوں کو بیوقوف ، ذلیل اور حقیر سمجھا جانے لگا ہے ۔ اس کے بالمقابل جھوٹے مکاروں اور ڈاکوں کو عزت دی جانے لگی ہے اور انہیں عقلمند و دانا گردانا جانے لگا ہے۔ رب ذوالجلال ہی اس غلط سوچ کو بدل سکتا ہے 

 یہ بھی پڑھیں: گیڈروں میں کمبل تقسیم کردو

 

1 Comment

Add a Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Hamariweb © 2021 Frontier Theme