بھیڑیوں کی کیا کیا خاصیت ہے؟ ترک لوگ بھیڑیا جانور سے کیوں تشبیہ دیتے ہیں

بھیڑیا جانور کی خاصیات

معزز دوستو السلام علیکم :میں ہوں وقاص دوستو کیا آپ جانتے ہیں؟ کہ ابن البار کسے کہتے ہیں۔ ارتغرالغازی کی انگوٹھی پر کیا بنا ہوا تھا؟ ’’ترکی کا قومی جانور بھیڑیا کیوں ہے‘‘ اورترک لوگ بھیڑیا سے اتنا پیار کیوں کرتے ہیں۔ یہی ہماری آج کا موضوع ہوگا! اور ہم آپ کو بتائیں گے بھیڑئے کی چند ایسی صفات و خاصیات جو یقینا آپ کے لیے حیران کن ہوگی۔ اور ایسی صفات و خاصیات جانوروں میں تو کیا؟ انسانوں میں بھی نایاب ہوتی جارہی ہیں۔ مگر آگے بڑھنے سے پہلے اگر آپ ہمارے ویبسائٹ پر نئے ہیں تو برائے مہربانی ہمارے ویبسائٹ کی پوسٹ کو شیئرکردیں اور اگر آپ کو پوسٹ پسند آئے تو ہماری حوصلہ افزائی کریں۔

 

دوستو: ’’بھیڑیا ترکی کا قومی جانور ہے‘‘

اور ترک لوگ بھیڑیے سے بہت پیار کرتے ہیں، اور اپنے بچوں کوبھیڑیا سے تشبیہ دے کر باہمت بناتے ہیں۔ ترکی میں بھیڑیا کو ابن البار کہا جاتا ہے، ’’یعنی نیک بیٹا‘‘ کیونکہ بھیڑئے کے والدین جب بوڑھے ہو جاتے ہیں تو بچہ ان کے لیے شکار کرتا ہے اور ان کا پورا خیال رکھتا ہے بھیڑیا اپنی آزادی پر کبھی بھی سمجھوتا نہیں کرتا، ’’بھیڑیا واحد جانور جو کسی کا غلام نہیں بنتا‘‘ جب کہ شیر سمیت ہر جانور کو غلام بنایا جا سکتا ہے۔ ’’اور اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ بھیڑیا واحد جانور ہے جو جنات کو بھی قتل کر سکتا ہے‘‘ بھیڑیاکی تیز آنکھوں میں جنات کو دیکھنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، اور اگر اسے کوئی جن نظر آجائے تو وہ فورا اس پر حملہ کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے-

بھیڑیا کبھی مردار نہیں کھاتا

اور یہی جنگل کے بادشاہ کا طریقہ ہے، اور نہیں بھیڑیا مہرم موئنث پر جھاکنتا ہے، یعنی باقی جانوروں سے بالکل مختلف آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ اگرچہ جانور ہے، اس کے باوجود بیڑیا اپنی ماں اور بہن کو شہوت کی نگاہ سے دیکھتا تک نہیں، بھیڑیا اپنی شریک حیات کا اتنا وفادار ہوتا ہے کہ اس کے علاوہ کسی اور موئنث سے تعلق قائم نہیں کرتا۔ اسی طرح موئنث بھی بھیڑیا کے ساتھ وفاداری کرتی ہے۔ بھیڑیا اپنی اولاد کو پہچانتا ہے، کیونکہ ان کی ماں اور باپ ایک ہی ہوتے ہیں جوڑے میں سے اگر کوئی مر جائے تو دوسرا مرنے والی جگہ پر کم از کم تین ماہ  افسوس کرتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھیڑیا ایک آنکھ سے سوتا ہے اور جب بھیڑیا ایک آنکھ کی نیند پوری کر لیتا ہے تو پھر دوسری آنکھ کی نیند پوری کرتا ہے زخمی بھیڑیا اپنے ریوڑ سے چھپ کر رہتا ہے ورنہ دوسرے بھیڑیئے اسے مار کر کھا جاتے ہیں اگر بھیڑئے ریوڑ کسی انسان پر حملہ آور ہو جائے اور انسان ان میں سے کسی بھیڑیا کو ایسا زخمی کر دے کہ اس کا خون نکال دے تو باقی بھیڑئے انسان کو چھوڑ کر اسے کھا جاتے ہیں۔ بھیڑئےکی بہترین صفات میں بہادری وفاداری خودداری اور والدین سے حسن سلوک مشہور ہیں۔

بھیڑئیے جب ایک جگہ سے دوسری جگہ جا رہے ہوتے ہیں تو وہ یوں گروپ میں چلتے ہیں کہ سب سے آگے چلنے والے بوڑھے اور بیمار بھیڑئے ہوتے دوسرے نمبر پر پانچ منتخب طاقتورجو بوڑھے بیماربھیڑیوں کے ساتھ سب سے پہلے تعاون کرنے والے ہوتے ہیں ان کے پیچھے طاقتور دشمن کے حملے کا دفاع کرنے والے چاک و چوبندبھیڑئے ہوتے ہیں درمیان میں باقی عام بھیڑئیے ہوتے ہیں سب کے آخر میں بھیڑیوں کا مسترد قائد ہوتا ہے۔ جوسب کی نگرانی کر رہا ہوتا ہے کہ کواپنی ڈیوٹی سے غافل تو نہیں۔ اور ہر طرف سے دشمن کا خیال رکھتا ہے اس کو عربی میں الف کہتے ہیں۔ کہ اکیلا ہزار کے برابر ہے۔

ایک سبق جو ہمارے لئے باعث عبرت ہے

بھیڑیا بھی اپنا بہترین خیر خاہ قائد منتخب کرتے ہیں۔ ترک اور منگول زمانہ قدیم سے ہی بھیڑیا کی اوصاف کے قائل رہے ہیں، اور وہ جنگل کا بادشاہ شیر کے بجائے بھیڑیا ہی کو مانتے ہیں۔ ’’بھیڑیا ترک اور منگول کا قومی جانور بھی ہے‘‘ ترک قبائل کے جنگجوؤں کی بہادری اور جانبازی کو بھی بھیڑیا سے تشبیہ دی جاتی تھی، ارتغرل الغازی سے منسوب ایک انگوٹھی جو آج بھی ترکی کے عجائب گھر میں محفوظ ہے، اس پربھیڑیا کا تصویر ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ترک ہمیشہ سے ہیبھیڑیا کے شجاعت کے قائل رہے ہیں ڈرامہ دریلس ارطغرل میں بھی وہ انگوٹھی ارتغل غازی کا کردار ادا کرنے والے اداکار کے ہاتھ میں دکھائی گئی ہے۔ امید ہے آپ کو ہماری آج کی پوسٹ پسند آئی ہوگی بہت جلد ایک نئی پوسٹ کے ساتھ آنے والا ہوں۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو 

یہ بھی پڑھیں: گیدڑوں میں کمبل تقسیم کردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Hamariweb © 2021 Frontier Theme