درد بھری پیار و محبت کی کہانی

ایثار محبت

درد بھری پیار و محبت کی کہانی کہانی پیار محبت کی، Piyar o Muhabbat Ki Kahani

 

 پیار و محبت کی کہانی

 

انٹرنیٹ میڈ یٹ پاس کرنے کے بعد آصف کا بی اے میں کالج  کا پہلا دن تھا ۔ وہ جوں ہی کلاس میں داخل ہوا تو اس کی نظر ایک بے حد خوبصورت لڑکی سے جا ٹکرائی ۔ وہ لڑکی دیکھنے میں پریوں کی رانی لگ رہی تھی ۔ آصف اس افسرہ کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ آصف نے دل ہی دل میں کہا بنانے والے نے اس حسین کو بڑی فرصت سے بنایا ہے ۔ گورا رنگ کالی کالی آنکھیں ہونٹ گلابی  صراحی دار گردن بھرا بھرا بدن، سوچتے سوچتے سپنوں کی دنیا میں کہاں کھو گیا۔

اومسٹر کہاں کھو گئے! ان کا ایک قریبی دوست تبریز نے کہا ۔ بس یوں ہی ہکا بکا ہو کر آصف بولا ۔ماجرہ ا کیا ہے؟ آصف میاں، کلاس میں داخل ہوئے ہی ہوگئے۔ تبریز سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا ۔ اس نے اپنی دل کی بات لاکھ چھپانے  کی کوشش کیا مگر کامیاب نہ ہو سکا ۔ آخر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس لڑکی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کون ہے ، یہ حسن کی ملکہ ؟ تبریز نے مزاقیاں انداز میں کہا، اچھا تو ماجرا یہ ہے کہ جناب آصف سے عاشق بن بیٹھے ہیں وہ بھی پہلی نظر میں۔ وہ بات نہیں ہے جو تم سوچ رہے ہو، آصف بات کو چھپانے کی کوشش میں کہا۔ تو پھر تم اس لڑکی کے بارے میں جان کر کیا کرو گے؟ تبریز نے سچ جاننے کی غرض سے کہا اور گھر سے باہر آگیا ہاں  مجھے اس لڑکی سے پہلی نظر میں پیار ہوگیا ہے اگر یہ لڑکی میری زندگی میں آ جائے  تو دوست سمجھو کہ میری زندگی سنور جائے گی ۔ ایک ہی سانس میں ، آصف نے پوری بات کہہ ڈالی ۔

تم مجھے اس دل رہا سے ملا دو، میں تمہارے احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔ چہرے پر اداس لائے ہوئے آصف بولا۔ ارے اس معمولی سی بات پر، پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں یہ تو میری پروس کی ہے جس کا نام دلکش ہے ، وہ دیکھو دلکش بھی باہر آگئی ۔ چلو میں ابھی ان سے تمہاری ملاقات کرواتا ہوں۔ ہیلو دلکش کالج میں پہلا دن کیسا گزر رہا ہے۔ یہ ہیں میرے سب سے اچھے دوست، آصف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تبریز بولا ۔ ہیلو مجھے لوگ آصف کہتے ہیں ۔ میرے نام سے تو آپ واقف ہو گئے ہیں پر ایک بھرپور نگاہ ڈالتے ہوئے دلکش ہونٹوں پر مسکراہٹ لاتی ہوئی بولی ۔ جیسا نام بالکل اسی طرح آپ ہیں نام رکھنے والوں نے بھی بڑی سوچ سمجھ کر آپ کا نام دلکش رکھا ہے ۔ اور پھر دونوں کے درمیان باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ دونوں کے ایک دوسرے سے برسوں کی پہچان ہے۔ اتنے میں کلاس کی گھنٹی کانوں میں گونج اٹھی سب کے سب کلاس کی جانب روانہ ہوگئے۔ کلاس میں آصف اور دلکش کے نظر بار بار ایک دوسرے سےٹکرا جاتی تھیں ۔۔۔۔۔ایسا لگ رہا تھا کہ عشق کی آگ دونوں کی طرف لگ چکی ہے۔ آج کا کالج میں وقت کیسے گزر گیا، دونوں کو پتہ ہی نہیں چلا۔ پوری رات آصف دلکش کی خیالوں میں ڈوبا رہا اور سوچ رہا تھا۔ دلکش کو کیسے بتاؤں۔ میں ان سے بے پناہ چاہتا ہوںدوسرے دن آصف نے صبح سویرے بستر چھوڑ دیا تیار ہو کر کالج نکل پڑے۔ کالج میں داخل ہوا تو دیکھتا ہے ، دلکش بھی اس کی راہ تک رہی تھی ، دونوں کا دل ایک دوسرے کو دیکھ کر خوشی سے جھوم اٹھا۔ سب باتوں کا سلسلہ چلا اور کئی دن گزر گئے لیکن دونوں اپنی محبت کا اظہار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے ۔ ایک دن آصف ایک مضبوط کے ساتھ قلم اور کاپی لے کر میز  پر بیٹھ کر کچھ تحریر کرنے لگا ۔

پیاری دلکش۔۔۔۔سلام مسنون اس خط کو ایک کوڑا کاغذ سمجھ کر پھینک نہ دینا بلکہ اس میں چھپے میری درد دل کو سمجھنے کی کوشش کرنا۔ دل کس تو یہ ہے کہ مجھے تم سے پہلی نظر میں ہی پیار ہوگیا ہے لیکن میری بد نصیبی ہے کہ میں اپنی محبت کا اظہار نہیں کر پایا ہوں میں تمہیں بے پناہ چاہتا ہوں اگر تم مجھے نہیں ملی تو شاید میں مر ہی جاؤں گا ۔ مجھے پوری امید ہے کہ اس ناکارہ انسان کے لئے تمہارے دل میں کسی کونے میں تھوڑی جگہ ضرور ہوگی۔ میں اپنے خط کے جواب کا انتظار بے چینی کروں گا۔  فقط تمہارا آصف اور پھر خط تبریز کو دے دیا- 

شام کے وقت اچانک تبریز ، آصف کے گھر آیا اور آپنے جیب سے ایک لفافے  نکال کر آصف کو دیتے ہوئے کہا کہ یہ دلکش کی طرف سے تمہارے لئے۔ آصف لفافے کولے کر بے چینی سے کھول کر پڑھنے لگا ۔ ڈیر آصف صاحب اسلام علیکم۔۔۔۔آپ کا خط موصول ہوا پڑھ کر حالات سے واقف ہوئی ۔ آصف میری جان میں بھی تو پہلی نظر میں آپ کا اپنا دل دے بیٹھی لیکن دل میں ایک طرح کا ڈرد رہتا تھا کہ کہیں آپ ہم سے دور نہ ہو جائیں۔ اسی لیے میں آپ سے کہ نہ پائی میں جس بات کو برسوں سے کہنے کے لیے بے قرار تھی آج آپ نے وہ بات کہ ڈالی ۔ اس لئے آج میں بے حد خوش ہوں میں آپ کو چاہتی ہوں اور زندگی بھر جاتی رہوں گی ۔ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے ۔

آپ کی دلکش—-آصف کا خط کو پڑھ کر اتنی خوشی محسوس کر رہا تھا جیسے کہ پوری کائنات کی خوشیاں آصف کو مل چکی ہے- اب آصف اور دل کس کالج میں بے ساختہ ملنے لگے ، یہ سلسلہ  کچھ دنوں تک جاری رہا ۔ دونوں کالج کے باہر بھی ملتے رہتے اور ساتھ بیٹھ کر گھنٹوں پیار کی باتیں کرتے رہتے آصف ایک معمولی سا لڑکا تھا۔ اس کے گھر میں اس کے والدین اور ایک بھائی دونوں بہینیں تھیں  جب کہ دلکش ایک وکیل کی اکلوتی بیٹی تھی ۔ اس کا کا ایک بڑا بھائی تھا جو ایک میڈیکل کالج میں ڈاکٹر کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اتنا عالی ترین خاندان ہونے کے باوجود بھی دلکش کی نظروں میں ہر انسان برابر تھا۔ امیر غریب سے اس کا کوئی واسطہ نہ تھا۔ دن گزرتے گئے دونوں کی محبت کا قصہ سر عام ہو گیا ۔ دونوں کے گھر والوں کو بھی معلوم ہوگیا یہاں تک کہ محلے والوں کو بھی۔ بدنامی کے ڈر سے دلکش کے گھر والوں نے اس کی پڑھائی بند کروا دی۔ یہاں تک کہ گھر سے باہر ہونے میں بھی پابندی لگا دی۔ جب یہ خبر آصف نے سنا تو اسے کافی دکھ ہوا۔ کچھ دنوں تک کافی غور و فکر کرنے کے بعد آصف ایک دن اپنی امی جان سے کہنے لگا ۔ امی میں نے آج تک ک آپ لوگوں کی ہر بات کو مانا۔  آپ لوگوں نے بھی میری خوشی میں اپنی خوشی ظاہر کی۔

ماں، میں دلکش کو بے حد چاہتا ہوں! اور اس سے شادی کرنا چاہتاہوں!

آپ ابو سے کہیے کہ دلکش کے گھر میرا رشتہ لے کر جائیں ۔ امی جان! اگر آپ لوگوں نے میری یہ چھوٹی سی خواہش پوری کر دی تو میں سمجھوں گا آپ لوگوں نے  مجھے پوری  دنیا کی خوشیاں دے دی ہیں۔ شام ہوئی آصف کے ابو سے گھر آئے تھے اور آصف کے امی نے پوری بات بتا دی۔ آصف کے ابو کو بھی یہ رشتہ ‏بالکل  پسند نہ تھا لیکن وہ یہ سوچ کر جانے کو تیار ہو گئے کہ دلکش بھی اسے چاہتی ہے اور محبت کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ دوسرے دن آصف کے  ابو دلکش کے گھر چلے گئے ادھر آصف کے مرجھائے ہوئے چہرے پہ رونق آنا شروع ہو گیا ۔ کچھ گھنٹے کے بعد آصف کے ابو چہرے پے اداسی لے کر واپس آئے۔ آصف نے بلا جھجھک ابو سے کہا ۔ دلکش کے گھر والوں نے کیا کہا۔ ابو جان؟ بیٹا ہم غریب انسان ہیں، ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی حیثیت کے لوگوں سے رشتہ جوڑیں ، ہمیں اونچے اونچے خواب دیکھنے کا کوئی حق نہیں میں توپہلے ہین نا خوش تھا لیکن تمہاری ماں کی ضد اور تمہاری خواہش نے مجھے وہاں ہاں جانے پر مجبور آصف میرے بچے تم دلکش کو بھول جاؤ ۔ اسی میں ہی تم دونوں کی بھلائی ہے میرے بچے میری باتوں کو دماغ سے  ہی نہیں بلکہ دل سے بھی سوچنا اور تب ہی خود فیصلہ کرنا ۔ پوری باتوں کو سن کر آصف بھاری قدموں کے سہارے اپنے کمرے میں چلا گیا اور بڑی سنجیدگی سے سوچنے لگا۔

کچھ دیر بعد اچانک آصف کے گھر تبریز آگیا –دیکھتا ہے کہ آصف کی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات ہو رہی ہے- مت روؤں  میرے دوست تبریز بولا اب رونے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہوں میں ہر طرف سے بے بس اور لاچار ہوں ۔ پھر تبریز نے کہا، آصف تم سے دلکش کل ضرور ملنا چاہتی ہے ۔ تم کل دوپہر کو میرے گھر آ جانا ۔ دوسرے دن آصف دو پہر کو تبریز کے گھر  پہنچ گیا ۔ پہلے تو دونوں خوب روئے پھر بعد میں آصف نے اپنے آپ کو سنبھالا ۔ تب ہی دلکش بول پڑی ۔ میں تمہارے بغیر جی نہیں سکتی ۔ آصف میرے گھر والوں نے زبردستی میری شادی کہیں اور جگہ طےکردی ہے ۔ پلیز آصف کچھ کرو نہیں تو میں مرجاؤں گی۔ اس پر آصف نے کہا دل میں محبت کرنے کا جذبہ رکھتی ہو اور  مرنے کی بات کرتی ہو سنو دل کس میں نے کافی غور و فکر کرنے کے بعدایک قدم اٹھانے کا سوچا ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو ہمیشہ کے لیے بھول جائیں گےاسی میں ہی ہم دونوں کی بھلائی ہے آصف آصف تم ہوش میں تو ہو ۔ تم میرے بغیر جی سکتے ہو لیکن یہ مجھ سے ہرگز نہ ہوگی میں تمہارے بغیر اپنے آپ کو بالکل ادھوری محسوس کرتی ہوں دلکش نے صاف صاف کہہ ڈالا۔ میں جانتا ہوں تم مجھے بے پناہ چاہتی ہو کیا میں تمہیں نہیں چاہتا ہوں۔ یہ تو وقت اور حالات کے ساتھ سمجھوتا ہے۔ دلکش ، محبت کا معنیٰ صرف ملن ہی نہیں ہوتا ہے ۔ جدائی بھی ایک محبت ہے ۔ شاید شاید ہماری تقدیر میں ایسی محبت ہے ۔ آصف کا جواب سن کر دلکش  پھر سے بولی، میں تمہارے بغیر جینے کے تصور کو بھی گناہ سمجھتی ہوں اور تم تم بھلا دینے والے بات کرتے ہو اگر ایسا ہوگیا تو تم پہلے میرا گلا دبا دو تمہاری باہوں میں اگر میری روح نکلے گی کہ تم نے مجھے دنیا کی ساری خوشیاں دے دی ۔ تم پاگل ہو گئی ہو کیا جن ماؤں نے ہمیں نو ۹ مہینے اپنے کوک میں رکھا اور سینکڑوں مصائب کا سامنا کرکے ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھا یا ۔ ان لوگوں نے ہمارے لیے کتنے سپنے دیکھے ہوں گے ۔ ان کے دلوں میں ہمارے لیے کتنی تمنائیں ہیں ۔

پہلے ہم اپنے والدیں کے بچے ہیں پھر کچھ اور۔ دلکش، تم یہ اچھی طرہ جانتی ہو کہ کسی ایک رشتے کے ٹوٹ جانے سے زندگی ختم نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ یہ زندگی زندہ دلی کا واحد پیغام ہے۔ آصف کی باتیں سن کر کر دلکش کی آنکھوں میں نمی لاتی ہوئی دھیمی آواز میں بولی۔تمہارے بغیر جینا میرے لئے بہت ہی سخت اور مشکل کام ہوگا۔ ہاں دلکش یہ بہت ہی مشکل ہے لیکن ناممکن تو نہیں ۔ سنو کوشش ایک ایسی چیز ہے جو ناممکن کو کو ممکن کر دیتی ہے اور مشکل کو آسان دلکش میں تمہاری جذبات کی قدر کرتا ہوں لیکن مجھے وقت اور حالات نے بے حد مجبور کر دیا ہے اور دیکھونا تقدیر بھی بے وفائی کرنا شروع کر دیا ہے اس لیے ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے محبت کی قربانی دینی پڑ رہی ہے ۔ آصف کی باتیں سن کر دلکش کی آنکھوں سے آنسوں بند ہی نہیں ہو رہے تھے تب ہی بول پڑی ۔ آصف میں تو ہمیشہ کے لیے تمہاری زندگی سے دور چلی جاتی ہوں لیکن ایک بات صدا یاد رکھنا ۔ چاہا ہے تم کو چاہوں گی ہر دم۔۔ مر کے بھی دل سے یہ پیار نہ ہوگا کم ۔۔ اور پھر آصف کی نظروں سے دلکش دور ہوتی چلی گئی ۔ اس کے تمناؤں کے غلاب اب دیکھتے ہی دیکھتے مرجھا گئے اس کی حسین اور مہکتی زندگی ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گئی 

یہ بھی پڑہیں:جونولنکیسٹر کی درد بھری کہانی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Hamariweb © 2021 Frontier Theme