QAYAMAT KI NISHANI حضرات امام مہدی علیہ السلام کا ظہور کا وقت عنقریب

حضرات امام مہدی  علیہ السلام کا ظہور کا وقت عنقریب۔ قیامت کی نشانی۔QAYAMAT KI NISHANI

قیامت کی نشانی۔QAYAMAT KI NISHANI

قیامت کی نشانی۔QAYAMAT KI NISHANI

السلام علیکم دوستو:آج حضرات امام مہدی  علیہ السلام کا ذکر ہوگا اور بیان کیا جائے گا کہ حضرات امام مہدی  علیہ السلام کے ظہور سے قبل کون سے واقعات رونما ہونگے، اور ایسے کون سے سچے واقعات ہیں جن کی پیشنگوئی کی گئی اور وہ مکمل طور پر حقیقت میں پورے ہو چکے ہیں۔ اس میں 1979 کے واقعے سے تاحال واقعات کی کڑیاں ملاتے ہوئے آپ کو اہم معلومات فراہم کی جائیگی۔ اور دانشور حضرات کے مطابق اس ماہ رمضان میں کس بات کی توقع ظاہر کی  جارہی ہے۔ اس کی تفصیل بھی آپ کے گوش گزار کی جائےگی۔

(حضرات امام مہدی  علیہ السلام کا ظہور کا وقت۲۰۲۰ میں کیا نشانی  پوری ہو چکی ہے)

پیارے دوستو: سب سے اہم سوال یہ ہے کہ حضرات امام مہدی  علیہ السلام کون ہیں  اس حوالے سے ایک حدیث آپ کے سامنے رکھتے ہیں کہ ابوسعید خدری  فرماتے ہیں: کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت امام مہدی میری اولاد میں سے ہوں گے روشن اور کشادہ پیشانی اور اونچی ناک والی وہ روئے زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے جس طرح سے یہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہے وہ سات برس تک زمین پر برسر اقتدار رہینگے۔حضرت امام مہدی کا ظہور ایک ایسے وقت میں ہو گا جب امت شدید مشکلات سے دوچار ہونگے اور ہر طرف مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا چکا ہوگا۔ چناچہ ان کے ظہور کے  وقت کی علامات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی ہے حضرات امام مہدی  علیہ السلام  وہ شخصیت ہیں  جن کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات  تمام مستند کتب مثلہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ملتے ہیں حدیث کے مطابق انکا ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔ قربے قیامت کی چند علامات  یہ ہے  سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ یعنی زمین کی گردش میں فرق واقع ہونا۔قواعد علم و نجوم اور فلکیات کے برخلاف رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن اور ۱۵ کو  سورج گرہن لگے گا ۔ سفیانی کا خروج  یہ ابو سفیان  کی اولاد سے ایک شخص   ہوگا اور ماں کی طرف بنوکلب سے ہوگا۔ جو بے شمار لوگوں کو قتل کرے گا اس کا پورا لشکر بیدا کے مقام پر زمین میں دھنس جائےگا۔ بیدا مکہ اور مدینہ کے درمیان میں  ایک جگہ ہے مشرق کی طرف سے ایک عظیم آگ کا تین یا سات روز تک جاری رہنا روایات میں آتا ہے یہ نشانی صحابہ کرام کے زمانے میں پوری ہو چکی ہے جبکہ قرب قیامت کی نشانیوں میں یہ بھی ہے  کہ بغداد اور بصرہ کا تباہ ہونا اور عراق پر روپے اور غلے کی پابندی لگنا ۔دوستو موجودہ حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تجزیہ کیا جائے تو بہت ساری کڑیاں ایک دوسرے سے ملتے ہوئے اس نقتے پر آکر ٹھہرجاتی ہے ۔ کیا واقعحضرات امام مہدی  علیہ السلام کا ظہور کا وقت بہت قریب آچکا ہے۔  جی ہاں یہ وہ کڑیاں ہیں جو سونچ پر مجبور کر دیتی ہے۔ اور وہ نشانیاں جو موجودہ حالات میں پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔  جب حضرات امام مہدی  علیہ السلام کا آمد کا اعلان کر رہی ہے انیس 1989 میں رونما ہونے والے واقعات اس بات پر مہر ثبت کر دی تھی 1979 میں سعودی عرب کی سرزمین پر خانہ کعبہ کو یرغمال بنانے کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں امام کعبہ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ کعبہ میں موجود تمام لوگوں کو یرغمال بناکر قتل و غارت گری کی گئی اور لوگوں کا ناحق خون بہایا گیا اس واقعے پر یہودی ٹولے نے خوشی  کا اعلان کیا اور اس واقعہ کو قرب قایامت سے جوڑا جاتا ہے۔ کیوں کے حدیث میں آیا ہے کہ جب قیامت قریب ہوگی تو حج موقوف کر دیا جائے گا اور موجودہ  دنوں میں  وباء  پیش نظر  پھرسے یہ تذکرہ عام ہے کہ اسیا ہونے جارہا ہے  کہا جاتا ہے کہ حضرت امام مہدی کا ظہور چالیس سال کی عمر میں ہوگا۔ اس لحاظ سے 1979 کے غیر معمولی واقعات لے کر اب تک کے عرصے کو گننا شروع کرے تو 2020 میں 40 سال پورے ہو چکے ہیں ان 40 سال کے پورے ہوتے ہی پچھلے تین مہینے سے جس طرح دنیا کے حالات تیزی سے بڑھ رہے ہیں  کیا آپ اسے محض اتفاق  کا نام دیں گے اور دوسرا یہ  کہ  مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا جائے گا۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں چلے جائیں مسلمانوں کے لئے محفوظ نہیں رہا۔ گن گن کر مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے اور سب سے اہم نشانی اسلام کا پہلے دور کی طرف لوٹ کر جانا ہے جس میں مسجدوں کی بجائے گھروں میں نماز ادا کی جاتی ہے۔ کیا اسی دور کی طرح کا خوف مسلط نہیں ہو گیا یا پھر مخض  اتفاق ہے۔

پیارے دوستو:قرب قیامت کی ایک نشانی یہ بھی بتائی جاتی ہے، قواعدے علم ونجوم  کے خلاف ایک ہی مہینے میں۔ رمضان المبارک کی پہلی اور مہینے کے درمیان یعنی 14 اور 15 کی تاریخ میں چاند گرہن اور سورج گرہن کا لگنا ہے۔ اتفاق سے 2020 کے رمضان المبارک کی پہلی شب چان گرہن   جبکہ رمضان المبارک کی 15 تاریخ کو سورج گرہن متوقع ہے جب کہ اسی سال وبائی مرض کی وجہ سے بیت اللہ کا طواف بھی روکنا پڑا کیا یہ حقائق  اسی جانب اشارہ نہیں کر رہی ہے۔ کہ قیامت نزدیک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نئی نسل کی چیونٹی۔ دنیا میں تباہی برپا کرسکتی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Hamariweb © 2021 Frontier Theme